Wednesday, 21 November 2018

چہرے کی جھریوں کو دور کریں


قدرتی ٹپس سے اپنے چہرے کی جھریوں کو دور کریں

google image


یوں تو سردیوں کے موسم کے آتے ہی ہر طرح کی جلد مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ مگر خاص طور پر خشک جلد والوں کی تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ جلد پر کھینچاوٴ پیدا ہو جاتا ہے۔ اور چہرہ ،ایڑیاں وغیرہ پھٹنے لگتی ہیں۔ جن کو دور کرنے کے لئے خواتین مختلف قسم کی کریموں کا استعمال کرتی ہیں۔ لیکن اس طرح کی کریموں سے آپ کو وقتی آرام تو آجاتا ہے اور چہرے پر بھی نرمی اور نمی آجاتی ہے۔لیکن کچھ دیر کے بعد خشک ہوا کے اثر سے دوبارہ خشکی ہو جاتی ہے ، جو بعض اوقات بڑی جھنجلاہٹ کا باعث بنتی ہے۔
جلد میں کھنچاوٴ مستقل رہے تو یہ ہی آگے جا کر جھریوں کا باعث بنتا ہے۔ جس سے خواتین کے چہرے پر اپنی عمر سے زیادہ کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ یوں تو یہ جھریاں پانی کی کمی کے علاوہ زیادہ غور و فکر اور سورج کی براہ راست تپش سے بھی پڑ جاتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ اگر خشک جلد بھی ہو تو جھریوں کا اندیشہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
جھریوں اورخشک جلد والی خواتین کے لیے :
چند عمومی ہدایات۔۔۔
# یاد رکھیے سردی کے موسم میں بار بار صابن کا استعمال اچھا نہیں۔نہانے اور خاص طور پر منہ دھونے کے لیے سردیوں میں صابن کی بجائے خاص طور پر سردیوں کے لیے بنا صابن استعمال کریں۔
#نہانے سے پہلے اگر زیتون کا تیل لے کر ہلکا مساج کر لیا جائے تو جسم ملائم رہتا ہے۔ نہانے کے بعد آپ چند قطرے زیتون کے تیل کے گلاب کے عرق میں ملا کر سارے جسم پر مل لیں تو انشاء اللہ خشکی نہیں رہے گی۔
#ہمیں سرد موسم میں پیاس کم لگتی ہے ، اس لیے غیر محسوس طریقے سے ہمارا پانی پینے کا تناسب خاصا کم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی خشکی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس موسم میں کم از کم دن بھر میں پانچ گلاس پانی تو ضرور پئیں۔
کچھ فائدہ مند ٹوٹکے:
#پکا ہوا پپیتا اور ایلوویرا کا جیل ایک ایک چمچ لے کر دونوں کو میش کر کے صاف چہرے پر روزانہ لگائیں اور بیس منٹ بعد چہرہ دھو لیں ، ڈھیلی جلد اور جھریوں کے لیے نہایت آزمودہ ہے۔
#ایلو ویرا جیل اور روغنِ بادام برابر لے کر رات کو لگا کر سو جائیں، اور صبح پانی سے دھو لیں۔جلد نرم و ملائم ہو جائے گی۔
#ماسک کے طور پر ایک انڈے کی زردی ، خشک دودھ ایک چمچ ، شہد ایک چمچ ملا کر چہرے پر لگائیں ۔آدھے گھنٹہ بعد منہ دھو لیں۔یہ ماسک چہرے کی تازگی کے لیے بہترین ہے۔
#دودھ کی بالائی بھی اس موسم میں ہونٹوں اور چہرے کی خشکی کے لیے اچھی چیز ہے۔ دن میں دو تین بار بالائی ہونٹوں پر لگانے سے ہونٹ گلابی اور نرم رہتے ہیں۔ اسی طرح بالائی چہرے پر کچھ دیر لگانے سے بھی خشک جلد صاف اور چمک دار ہو جاتی ہے۔
#چہرے پر تازگی لانے کے لیے موسم کے پھلوں سے بھی بہت زیادہ مدد لی جاسکتی ہے۔ ان خواتین کے لیے جنہیں صرف گوری رنگت کا شوق ہے ان کے لیے ایک بے حد مفید اور آزمودہ شربت جسے پورا سیزن پینے سے زبردست نتیجہ سامنے آتا ہے۔
اشیاء :
انار ایک عدد، سیب ایک عدد،شہد دو چمچ ، آدھے لیموں کا رس ، گاجر دو عدد، پودینہ چند پتے۔
انار ،سیب اور گاجر کا جوس نکال کر شہد، لیموں اور پودینہ کو ملائیں اور روز ایک گلاس پینے سے رنگت میں واضح فرق محسوس کریں۔

چہرے کی جھریاں دور کرنے کا آسان اور آزمودہ نسخہ


چہرے کی جھریاں دور کرنے کا آسان اور آزمودہ نسخہ 


Tuesday, 24 July 2018

دانت کے درد کا علاج


 دانت کے درد کا علاج....دانت کا درد کتنا شدید

عمر بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی فرسودگی یا خرابی کا سامنا ہر ایک کو ہوتا ہے مگر مہنگے علاج کی بجائے سستی اسپرین اس کو ریورس کرنے میں مدد دے 
سکتی ہے۔

یہ عام اور سستی درد کش گولی دانتوں کو اپنی مرمت خود کرنے پر مجبور کردیتی ہے، جبکہ نئے دنتین (دانت کا سخت اسٹرکچر)کی تشکیل کے لیے بھی مددگار ہے جو کہ عام طور پر دانتوں کی خرابی سے متاثر ہوتا ہے۔
دانتوں کی فرسودگی دنیا بھر میں دانتوں کے امراض میں سب سے عام ہے جو 
ایک تہائی بالغ افراد کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ تحقیق کے مطابق  اسپرین دانتوں کی اپنی مرمت کے لیے فوری حل ثابت ہوسکتی ہے۔ محققین نے کہا کہ یہ نیا طریقہ کار نہ صرف دانتوں کی عمر کو لمبی کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ طبی اخراجات میں نمایاں کمی لانے میں بھی مدد دے گا۔
google image

اسپرین
دانتوں کا درد کے لئے درد کی جگہ یعنی جس حصے میں درد ہو ایک دانت کے پیچھے براہ راست اسپرین کو مسوڑھے پر رکھتا ہے. … ایسپیرین بہت سے مریضوں کے لئے درد اور سوجن کو دور کرنے میں مدد کرے گے
google image

بیکنگ سوڈا
بیکنگ سوڈا ورم کش خصوصیات رکھتا ہے جو کہ سوجن کم کرتا ہے جبکہ جراثیم کش ہونے کی وجہ سے یہ دانت کے انفیکشن کا علاج بھی کرتا ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے پانی میں روئی ڈبو کر نکالیں اور اسے بیکنگ سوڈا سے کور کردیں، اس روئی کو متاثرہ دانت پر رکھنا درد میں کمی لاسکتا ہے۔ اسی طرح ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا کچھ مقدار میں گرم پانی میں ڈال کر مکس کریں اور اس سیال سے کلیاں کرنا بھی یہی فائدہ پہنچاتا ہے۔
google image

دار چینی
ایک چائے کا چمچ دار چینی پاﺅڈر اور 5 چائے کے چمچ شہد کو مکس کریں، اس پیسٹ کو متاثرہ حصے پر لگائیں جو درد میں کمی لائے گا، یہ عمل دن میں دو سے تین بار یا اس وقت تک دہرائیں جب تک درد ختم نہ ہوجائے۔
google image

پودینے کی چائے
ایک چائے کے چمچ پودینے کے خشک پتے ایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں 20 منٹ کے لیے ڈبو دیں، اس کے بعد چھان لیں اور چائے ٹھنڈی ہونے پر اس سے کلیاں کریں۔ یہ چائے متاثرہ حصے کو سن کردے گی جبکہ ورم سے بھی ریلیف ملے گا
google image

لونگ یا لونگ کا تیل
لونگ کو صدیوں سے دانتوں کے درد کے علاج کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ یہ قدرتی طور پر جراثیم کش مصالحہ ہے، لونگ کے سفوف کی معمولی مقدار کا متاثرہ دانت پر استعمال یا لونگ کو ہی چبانا اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لونگ کا تیل (2 قطرے) متاثرہ حصے پر لگانے سے بھی ایک منٹ میں آرام آسکتا ہے۔
google image

لہسن

لہسن بھی جراثیم کش ہوتا ہے اور یہ درد میں کمی لانے کا کام بھی کرتا ہے۔ اس کو کچل کر پیسٹ کی شکل دے دیں اور متاثرہ حصے پر لگائیں یا آہستگی سے چبائیں۔ اس عمل کو کئی روز تک دہرائیں جب تک درد ختم نہ ہوجائے۔

Monday, 23 July 2018

چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے



چھاتی کا کینسر

چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے


ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق چھاتی کا سرطان کامیاب علاج کے 15 سال بعد بھی مرض دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق میں 20 سال کے عرصے تک 63 ہزار ایسی خواتین کی صحت اور علاج کا جائزہ کیا گیا، جن کو چھاتی کے سرطان کی سب سے عام قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔

ایسی خواتین جن کی رسولیاں بڑی تھیں یا سرطانی خلیے ان کے لمف غدودوں تک پھیل گئے تھے، ان میں کینسر کے لوٹنے کا 40 فیصد امکان تھا۔

تاہم محققین نے امریکی طبی حریدے 'نیوانگلنڈ جرنل آف میڈیسن' میں لکھا ہے کہ اگر ہارمون کے علاج کی مُدت بڑھا دی جائے تو اس مرض کے دوبارہ ہوجانے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

چھاتی کے سرطان کی سب سے عام قسم میں ایسٹروجن ہارمون سے کینسر کے خلیوں میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اس کے علاج میں مریضوں کو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو ایسٹروجن کے اس عمل کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔

عام طور پر اس علاج کے پانچ سال تک جاری رکھے جانے سے یہ کینسر ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ جن خواتین میں پانچ سال بعد یہ کینسر ختم ہو گیا تھا، ان میں سے کئی میں اگلے 15 سال تک یہ واپس آ گیا۔

اس تحقیق کے اہم محقق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہونگ چاؤ پین نے کہا کہ 'یہ بات حیران کُن ہے کہ چھاتی کا کینسر اتنے سالوں تک خاموش شکل میں جسم میں رہ سکتا ہے، اور اتنے سالوں کے بعد پہلے جیسی شدت کے ساتھ دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے۔'

البتہ جن خواتین کی رسولی چھوٹی تھی یا ابھی ان کا کینسر لمف غدودوں تک نہیں پھیلا تھا ان میں اس مرض کے دوبارہ لوٹنے کے امکانات صرف دس فیصد تھے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ہونگ چاؤ پان نے کہا کہ’یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چھاتی کا سرطان اتنا عرصہ خاموش رہنے کے بعد دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے، اور اس بات کا خطرہ سالہا سال بعد بھی رہتا ہے۔‘

Saturday, 21 July 2018

انار دانہ یعنی سوکها ہوا انار



سوکھے ہوئے انار

انار دانہ
سوکھے ہوئے انار کے دانوں کا ایسا فائدہ کہ آپ انہیں سونے کے بھائو بھی خریدیں گے

انار دانہ یعنی سوکها ہوا انار
اپنی صحت کا خیال رکھنے والے لوگ اس پھل کے فوائد سے بخوبی واقف ہیں اور حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق انار وٹامن سے بھرپور ہوتا ہے جو مختلف امراض کے خلاف فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ البتہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انار تو کھاتے ہیں لیکن اس کے دانے چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلے کہ انار کےدانےمیں بےحد طبی فوائد موجود ہیں جو جسم کو ضروریاتی نیوٹریشن فراہم کرتے ہیں۔

قوت مدافعت:
بیماریوں سے دور رہنے کیلئے جسم کو وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک انار دانے جسم کو روزانہ تقریباً 40 فیصد وٹامن سی فراہم کرتا ہے جو بیماریوں سے لڑنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔دل کی صحت:اگر آپ اپنے دل کیلئے صحت مند غذا کا انتخاب کرنا چاپتے ہیں تو انار دانے آپ کیلئے بےحدفائدہ مند ہیں۔ انار دانے نہ ہی صرف کیلوسٹرول کو کم کرتے ہیں بلکہ وہ زیادہ بلڈ پریشر کو بھی کم کرتے ہیں۔

موٹاپا:
انار دانے بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن وہ فائبر سے مالا مال ہوتے ہیں اور فائبر ایک ایسا ضروری نیوٹریشن ہے جو وزن کم کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔

فائبر سے مالا مال غذا آپ کے جسم کو مطمئن رکھتی ہے جس کی وجہ سے آپ ضرورت سے زیادہ کھانا نہیں کھاتے، دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ انار کے دانوں کا استعمال دوسری خوراک کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں۔

Wednesday, 18 July 2018

دل کے امراض سے بچاؤ کا عالمی دن 29 ستمبر


جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
                             دل کے امراض



پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض سے بچاؤ کا عالمی دن 29 ستمبر کو منایا جاتا ہے غالبا یہ پہلی مرتبہ 2002کو منایا گیا۔ جس کو منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاؤ کا شعور پیدا کرنا ہے۔
دل حیاتیاتی نظام کو چلانے میں سب سے بڑا کردار اداکرتا ہےصاف شفاف بلڈجسم کو غذا کی صورت میں مہیا کرنا اسی کا کام ہے جس کے بغیر انسانی زندگی ناممکن ہے اسی لیے تو دل کو جسم کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔اگر انسان کا دل درست ہوتو سارا بدن درست رہتا ہے اگر اس کے برعکس ہوتو سارا جسم بیمار لگتا ہے ۔ صحیح مسلم(۵۲)میں ہے رسول اللہؐے فرمایا:
((أَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ أَلَا وَہِیَ الْقَلْبُ))
’’جسم کے اندر ایک ٹکڑا ہے اگر وہ تندرست ہوتو سارا بدن تندرست ہوتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے،بیمارہو جائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے خبردار وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘


روز قیامت اگر کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ بیمار دل کا نہیں بلکہ صاف شفاف قلب سلیم کا ہو سکتا ہےسورت الشعراء:۸۸،۸۹)میںاللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے:
’’ جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکے گا اور نہ بیٹے ۔ہاں جو شخص اللہ کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا) ۔‘‘
مزید( مسند أحمد : ۳/۱۹۸)میںنبی کریمؐ نے بھی فرمایا ہے:
((لَا یَسْتَقِیمُ إیْمَانُ عَبْدٍ حَتَّی یَسْتَقِیمَ قَلْبُہُ وَلَا یَسْتَقِیمُ قَلْبُہُ حَتَّی یَسْتَقِیمَ لِسَانُہُ))
’’کسی بندے کا ایمان سیدھا( صحیح) نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل سیدھا (مستقیم) نہ ہو اور آدمی کا دل مستقیم نہیں ہو سکتا حتی کہ آدمی کی زبان سیدھی ہے۔‘‘
دل اللہ کی محبت کا مقام ہے ،دل ایمان کا مقام ہے دل ہی ہر اک کی محبت کامحل ہے بلھے شاہ کی یہ بات یقینا سچ ہے کہ ’’پر بندے دا دل نا ٹھاویں ۔۔رب دلاں وچ رہندا‘‘
سلسلہ احادیث الصحیحہ (۱۶۱۹)میںرسول اکرمؐ کا فرمان بھی اسی کی عکسی کرتا ہےآپؐ نے فرمایا:
((إنَّ لِلّٰہِ اٰنِیَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَاٰنِیَۃُ رَبِّکُمْ قُلُوبُ عِبَادِہِ الصَّالِحِینَ وَأَحَبُّ إلَیْہِ وَأَلْیَنُھَا وَأَرَقُّھَا))
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے لیے زمین میں برتن میں اور تمھارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں اور ان میں سے اسے سب سے زیادہ محبوب دل وہ ہیں جو سب سے زیادہ نرم اور سب سے زیادہ رقت والے ہیں۔‘‘

 سنن ابن ماجہ(۴۲۱۶)میں ہےسیدناعبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے آپؐسے دریافت کیا لوگوں میں سے افضل کون ہے تو آپؐنے فرمایا:جو مخموم القلب اور صدوق اللسان ہو ۔ صحابہ ؓ نے کہا : زبان سچ والا تو سمجھ آگیا مگر مخموم القلب کیا ہے؟ توآپؐنے فرمایا:
((ہُوَ التَّقِیُّ النَّقِیُّ لاَ إثْمَ فِیْہِ وَلَا بَغْیَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ))
’’یہ وہ ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو جس کا دل صاف ہواس میں نہ گناہ ہو اور نہ ظلم اور نہ خیانت ہو اور نہ حسد۔‘‘

کینسرکے معاملے میں بھی بچاؤعلاج سے بہترہے


بچاؤعلاج سے بہترہے
                     علامات پرتوجہ دی جائے

دیگرامراض کی طرح کینسرکے معاملے میں بھی بچاؤعلاج سے بہترہے۔لہذااگرعلامات پرتوجہ دی جائے اورشروع میں فعال ہواجائے توکینسرکاعلاج آسانہے۔ 
کینسرکی ابتداء میں جسم میں خون کے سفیدخلیات کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوتاہے جس کے نتیجے میں جسم کی انفکشن کے خلاف لڑنے کی صلاحیت متاثرہوتی ہے۔
 جسمانی وزن میں کمی کا خواہش مندہوتاہے جس کیلئے غذایاورزش کوترجیح دی جاتی ہے،مگر جب ایسابغیرکسی کوشش اوروجہ کے ہونے لگے خاص طورپراگر10پونڈوزن کم ہوجائے تویہ عام بات نہیں،ایسے امکانات ہیں کہ یہ لبلبے ،معدے یاپھیپھڑے کے کینسرکی پہلی علامت ہوسکتی ہے۔مسلسل تھکاوٹ:ہرایک کوجسمانی توانائی میں کمی کاکبھی نہ کبھی سامناہوتاہے تاہم اگرایساایک ماہ تک روزانہ ہو،سانس گھٹنے لگے جوپہلے کبھی نہ ہوتویہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتاہے،خون کاکینسرہروقت تھکاوٹ کاباعث بن سکتاہے،اکثرکینسرنہیں بھی ہوتامگرڈاکٹرسے معائنہ کروالیناچاہئے کیونکہ کسی اورمرض کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

آپ کوتھاوٹ :وزن میں کمی یاکمردردکی شکایت بھی لاحق ہوجائے تواس کا معائنہ کراناچاہئے،خصوصاً خواتین کو۔پیشاب کے دوران مسائل:عمربڑھنے کے ساتھ بیشترمردوں کوپیشاب کے دوران مشکلات کا سامنا ہوتا ہے،جیسے بہت زیادہ واش روم کے چکرلگانا،کپڑوں میں نکل جانایادیگر،عام طورپریہ مثانے کی خرابی ہوتی ہے مگریہ مثانے کا کینسربھی ہوسکتاہے 

منہ میں چھالے یادرد:منہ میں چھالے اگرٹھیک ہوجائے توپریشانی کی بات نہیں اورنہ ہی دانت کا دردقابل فکرہوتاہے،مگرجب یہ چھالے ٹھیک نہ ہویادردجم کررہ جائے،مسوڑوں یازبان پرسفیدیاسرخ نشان بن جائیں یاجبڑوں کے قریب سوجن یابے حسی محسوس ہوتویہ منہ کے کینسرکی علامت ہوسکتی ہیں،

معدے میں دردیامتلی:اگرآپ کے معدے میں مسلسل دردرہتاہے یاہروقت متلی کا احساس ہوتاہے تویہ غذائی نالی کے کینسرکی علامت ہوسکتی ہے،مگرخون یالبلبے کے کینسرکی صورت میں بھی یہ علامات ظاہرہوتی ہیں۔چیزیں نگلنے میں مشکل:نزلہ زکام ،معدے میں تیزابیت یاادویات کے استعمال کے نتیجے میں چیزیں نگلنامشکل ہوجاتاہے،مگرصورتحال وقت کے ساتھ یاادویات کے استعمال سے بہترنہیں ہوتی توڈاکٹرسے رجوع کیاجاناچاہئے۔چیزیں نگلنے میں مشکل گلے کے کینسرکی علامت ہوسکتی ہے یایہ منہ اورمعدے کے درمیان نالی کاسرطان بھی 
ہوسکتاہے۔

چہرے کی جھریوں کو دور کریں

قدرتی ٹپس سے اپنے چہرے کی جھریوں کو دور کریں google image یوں تو سردیوں کے موسم کے آتے ہی ہر طرح کی جلد مسائل کا شکار ہو جات...