Wednesday, 18 July 2018

دل کے امراض سے بچاؤ کا عالمی دن 29 ستمبر


جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
                             دل کے امراض



پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض سے بچاؤ کا عالمی دن 29 ستمبر کو منایا جاتا ہے غالبا یہ پہلی مرتبہ 2002کو منایا گیا۔ جس کو منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاؤ کا شعور پیدا کرنا ہے۔
دل حیاتیاتی نظام کو چلانے میں سب سے بڑا کردار اداکرتا ہےصاف شفاف بلڈجسم کو غذا کی صورت میں مہیا کرنا اسی کا کام ہے جس کے بغیر انسانی زندگی ناممکن ہے اسی لیے تو دل کو جسم کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔اگر انسان کا دل درست ہوتو سارا بدن درست رہتا ہے اگر اس کے برعکس ہوتو سارا جسم بیمار لگتا ہے ۔ صحیح مسلم(۵۲)میں ہے رسول اللہؐے فرمایا:
((أَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ أَلَا وَہِیَ الْقَلْبُ))
’’جسم کے اندر ایک ٹکڑا ہے اگر وہ تندرست ہوتو سارا بدن تندرست ہوتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے،بیمارہو جائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے خبردار وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘


روز قیامت اگر کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ بیمار دل کا نہیں بلکہ صاف شفاف قلب سلیم کا ہو سکتا ہےسورت الشعراء:۸۸،۸۹)میںاللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے:
’’ جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکے گا اور نہ بیٹے ۔ہاں جو شخص اللہ کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا) ۔‘‘
مزید( مسند أحمد : ۳/۱۹۸)میںنبی کریمؐ نے بھی فرمایا ہے:
((لَا یَسْتَقِیمُ إیْمَانُ عَبْدٍ حَتَّی یَسْتَقِیمَ قَلْبُہُ وَلَا یَسْتَقِیمُ قَلْبُہُ حَتَّی یَسْتَقِیمَ لِسَانُہُ))
’’کسی بندے کا ایمان سیدھا( صحیح) نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل سیدھا (مستقیم) نہ ہو اور آدمی کا دل مستقیم نہیں ہو سکتا حتی کہ آدمی کی زبان سیدھی ہے۔‘‘
دل اللہ کی محبت کا مقام ہے ،دل ایمان کا مقام ہے دل ہی ہر اک کی محبت کامحل ہے بلھے شاہ کی یہ بات یقینا سچ ہے کہ ’’پر بندے دا دل نا ٹھاویں ۔۔رب دلاں وچ رہندا‘‘
سلسلہ احادیث الصحیحہ (۱۶۱۹)میںرسول اکرمؐ کا فرمان بھی اسی کی عکسی کرتا ہےآپؐ نے فرمایا:
((إنَّ لِلّٰہِ اٰنِیَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَاٰنِیَۃُ رَبِّکُمْ قُلُوبُ عِبَادِہِ الصَّالِحِینَ وَأَحَبُّ إلَیْہِ وَأَلْیَنُھَا وَأَرَقُّھَا))
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے لیے زمین میں برتن میں اور تمھارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں اور ان میں سے اسے سب سے زیادہ محبوب دل وہ ہیں جو سب سے زیادہ نرم اور سب سے زیادہ رقت والے ہیں۔‘‘

 سنن ابن ماجہ(۴۲۱۶)میں ہےسیدناعبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے آپؐسے دریافت کیا لوگوں میں سے افضل کون ہے تو آپؐنے فرمایا:جو مخموم القلب اور صدوق اللسان ہو ۔ صحابہ ؓ نے کہا : زبان سچ والا تو سمجھ آگیا مگر مخموم القلب کیا ہے؟ توآپؐنے فرمایا:
((ہُوَ التَّقِیُّ النَّقِیُّ لاَ إثْمَ فِیْہِ وَلَا بَغْیَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ))
’’یہ وہ ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو جس کا دل صاف ہواس میں نہ گناہ ہو اور نہ ظلم اور نہ خیانت ہو اور نہ حسد۔‘‘

No comments:

Post a Comment

چہرے کی جھریوں کو دور کریں

قدرتی ٹپس سے اپنے چہرے کی جھریوں کو دور کریں google image یوں تو سردیوں کے موسم کے آتے ہی ہر طرح کی جلد مسائل کا شکار ہو جات...